خسارے میں کمی کے اقدامات کے مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں،میاں زاہد حسین

خسارے میں کمی کے اقدامات کے مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں،میاں زاہد حسین

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اگست2019ء)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ جاری حسابات کے خسارے میں مسلسل کمی خوش آئند ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ عرصہ دراز کے بعد معیشت متوازن ہونے کی جانب گامزن ہے۔

مسلسل خسارے کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑنے والے بوجھ میں اب کمی واقع ہو رہی ہے جس سے استحکام آئے گا۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ جاری حسابات کا خسارہ موجودہ حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج تھا جس پرامپورٹ میں کمی اور ڈسکائونٹ ریٹ میں اضافہ کرکے قابو پایا جا رہا ہے جو عا رضی حل ہے۔ جولائی کے مہینے کے سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاری حسابات کا خسارہ مسلسل کم ہو کر 579 ملین ڈالر ہو گیا ہے جو گزشتہ سال جولائی میں 2.13 ارب ڈالر تھا جوبظاہر ایک بڑی کامیابی ہے۔

جاری حسابات کے خسارے میں73 فیصد کمی سے اقتصادی صورتحال اور کاروباری برادری کے اعتماد پر مثبت اثر پڑے گا۔انھوں نے کہا کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی، ایل این جی کی درآمدات میں کمی اوراقتصادی راہداری کے لئے مشینری کی درآمدات میں کمی نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ خوردنی تیل اور ٹرانسپورٹ گروپ کی درآمدات بھی کسی حد تک سکڑ گئی ہیں جبکہ مجموعی معاشی سرگرمیوں میں کمی کی پالیسی نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔

مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافہ کی وجہ سے طلب میں کمی نے بھی اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ درآمدات میں کمی اور کرنسی کی قدر میں کمی سے درآمدات میں کمی توآئی ہے مگرابھی تک برآمدات میںاضافے کے ذریعہ تجارتی خسارے میں کمی کا مقصد حاصل نہیں کیا جا سکا جس کی وجوہات میں مشینری، خام مال، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، برآمدکنندگان کے ریفنڈز کی عدم ادائیگی اور شرح سود میں اضافہ شامل ہے جس سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ برآمدات کی طرح ترسیلات میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا ہے جس کا نوٹس لے کر ضروری اقدامات کئے جائیں۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ صرف کرنسی کی قیمت کم کرنے سے ممکن نہیں ہے ،برآمدات میں اضا فہ کیلئے سیکٹر اسپیسیفک کمپنیاں بنا ئی جا ئیں ورنہ صرف امپورٹ میں کمی تجارتی خسارہ سے بچنے کا مستقل حل نہیں ہے ۔