عرب ممالک کی مودی سے قربتیں، پاکستان کو کیا کرنا ہو گا؟

عرب ممالک کی مودی سے قربتیں، پاکستان کو کیا کرنا ہو گا؟

40 سال سے اسرائیل چاہتا ہے پاکستان سے سفارتی تعلقات قائم ہوں،برادر ممالک خود اسرائیل سے جڑ گئے بلکہ مودی جیسے پاکستان دشمن کو بھائی بنا لیا، وقت ہے پاکستان اپنے مفاد میں فوری فیصلہ کرے۔ صحافی کامران خان

اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔25 اگست 2019ء) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی عرب ممالک سے قربتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔نریندر مودی کو متحدہ عرب امارات اور بحرین میں اعلیٰ ترین ایوارڈ سے نواز گیا۔ایسے میں پاکستان کو کیا کرنا ہو گا؟۔اسی حوالے سے معروف صحافی کامران خان نے ٹویٹ کیا ہے کہ 40 سال سے اسرائیل چاہتا ہے پاکستان سے سفارتی تعلقات قائم ہوں یا اتنا تعلق تو ہو جتنا اس کا کئی مسلم ملکوں سے ہے ہمُ انکاری رہے برادر ممالک برا نہ منائیں حتی کہ یہ دوست خود اسرائیل سے جڑ گئے بلکہ مودی جیسے پاکستان دشمن کو بھائی بنا لیا وقت ہے پاکستان اپنے مفاد میں فوری فیصلہ کرے۔
خیال رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو متحدہ عرب امارات میں اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نواز ا گیا،۔

انتخابات میں کامیابی کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے متحدہ عرب امارات کا پہلا دورہ کیا جس میں انہوں نے ایوان صدر میں متحدہ عرب امارات کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر شیخ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی۔اس موقع پر ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو متحدہ عرب امارات کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ''زید ایوارڈ'' دیا گیا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب بھارت ظالمانہ طور پر کشمیر پر قبضہ کر چکا ہے کہ کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے،اُس وقت اسلامی ملک متحدہ عرب امارات مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر بھارت سے تشویش کا اظہار کرنے کی بجائے بھارتی وزیراعظم کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نواز رہا ہے ۔
یو اے ای کے بعد بحرین نے بھی بھارتی وزیراعظم کو سول ایوارڈ سے نواز دیا ۔ بحرین کے وزیراعظم نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو ‘کنگ حماد آرڈر آف رینائسنس’ ایوارڈ سے نوازا ۔نریندر مودی بحرین کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیراعظم ہیں۔خیال رہے کہ نریندر مودی کو یہ اعزاز ایک ایسے وقت میں دیا گیا جب کشمیر میں گذشتہ 21 روز سے سخت پابندیاں قائم ہیں اور نظام زندگی عملی طور پر مفلوج ہے۔عرب ممالک کی طرف سے مودیکو ایوارڈ نوازنے کے بعد پاکستان میں بھی سخت مایوسی پائی جاتی ہے۔