عورت نے 11 ہفتوں کے فرق سے جڑواں بچوں کو جنم دیا۔ ایسا ہونے کا چانس 5 کروڑ میں سے 1 ہے

عورت نے 11 ہفتوں کے فرق سے جڑواں بچوں کو جنم دیا۔ ایسا ہونے کا چانس 5 کروڑ میں سے 1 ہے

قازقستان سے تعلق رکھنے والی  29 سالہ عورت نے 11 ہفتوں کے فرق سے جڑواں بچوں کو جنم دےکر ڈاکٹروں کو حیران کر دیا۔ ایسا نایاب  واقعہ 5 کروڑ میں سے ایک بار ہوسکتا ہے۔
ڈاکٹروں کو 7 سال پہلے ہی معلوم ہو چکا تھا کہ شمالی قازقستان کے شہر یورالسک سے تعلق رکھنے والی    لیلیا کونوسالووا ایک انتہائی نایاب بیماری کا شکار ہیں۔لیلیا کے جسم میں ایک نہیں دو رحم تھے۔

سات سال پہلے تو اُن کے ہاں ایک صحت مند بیٹی نے جنم لیا تھا لیکن اس بار اُن کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ  جڑواں بچے 11 ہفتوں کے فرق سے پیدا ہوئے ہیں۔ دونوں کی پرورش لیلیا کے الگ الگ رحم میں ہوئی  تھی، جس کی وجہ سے ان کی پیدائش میں اتنا زیادہ وقفہ رہا۔
24 مئی کو لیلیا کے ہاں وقت سے پہلے ہی ایک بیٹی پیدا ہوئی۔

  یہ بچی حمل کے 25 ویں ہفتے میں پیدا ہوئی تھی۔ پیدائش کےوقت اس کا وزن 850 گرام تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ پیدائش کے بعد کئی ہفتوں تک اسے انتہائی نگہداشت میں رکھنا پڑا۔اس بچی کا جڑواں بھائی 9 اگست کو پیدا ہوا۔ پیدائش کے وقت اس کا وزن 2.9 کلو گرام تھا۔ لیلیا نے اس بچے کو   بوگاتیر کے طور پر بیان کیا۔ بوگاتیر روسی علاقائی کہانیوں میں  جنگجو ہیرو ہے۔
لیلیا اور ان کے دونوں بچوں، جن کا وزن اب تین تین کلوگرام ہے، کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔لیلیا کا کیس  قازقستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے۔ اگرچہ جڑواں بچوں کی تھوڑے وقفے سے پیدائش اتنی زیادہ نایاب نہیں لیکن 11 ہفتوں کے فرق سے جڑواں بچوں کی پیدائش ایک نایاب کیس ہے۔