لیموں حسن افزاء خوبیوں کا حامل پھل

لیموں حسن افزاء خوبیوں کا حامل پھل

یہ کھٹا کھٹا رسیلا مزیدار پھل ناصرف فرحت بخش مشروبات تیار کرنے اور کھانوں کو منفرد ذائقہ عطا کرنے کے سلسلے میں بکثرت استعمال کیا جاتا ہے،بلکہ رنگ وروپ نکھارنے اور بہترین حسن افزاء خوبیوں سے بھر پور ہونے کی وجہ سے بھی اسے ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ذیل میں لیموں کے ذریعے آرائش حسن کے چند مفید نسخے درج کیے جارہے ہیں۔چکنی جلد کی حامل خواتین گوری رنگت کے حصول کے لیے لیموں کے ٹکڑے آہستہ آہستہ جلد پر ملیں۔اس سے جلد پر جمی ہوئی یا ہر وقت پھیلی رہنے والی چکنائی کا خاتمہ ہو گا لیموں ملنے کے پندرہ منٹ بعد ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھوئیں۔شاداب وجواں جلد کے لیے آدھا چائے کا چمچ دودھ میں آدھا چائے کا چمچ گاجر کارس یا کھیر ے کا رس اور چند قطرے لیموں کا رس ملا کر پھینٹ لیں۔

یہ مرکب روئی کے پھائے کی مدد سے جلد پر لگائیں پندرہ سے بیس منٹ تک لگا رہنے دیں اس کے بعد ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھو کر صاف کرلیں۔
اگر سورج کی تمازت سے جلد کی رنگت سیاہی مائل ہو گئی ہے تو ملائی والے دودھ میں لیموں کا رس ملا کر پھینٹ لیں۔دوکپ گاڑ ھے ملائی دار دودھ میں دو لیموں کا رس ملائیں اور جلد پر خوب اچھی طرح لگا کر آدھا گھنٹہ تک ٹھنڈی جگہ پر لیٹ جائیں۔اس کے بعد سادے پانی سے جلد دھو کر صاف کرلیں۔بالوں کی صحت،مضبوطی وبہترین نشوونما کے لیے آملے کے تیل میں لیموں کا رس ملا کر رات میں روزانہ مساج کریں۔ناصرف بال جھڑ نارک جائیں گے بلکہ ان کی سیاہی وچمک میں بھی خوب ہو گا۔لیموں کئی اجزاء بشمول وٹامن سی(اسکاربک ایسڈ)سٹرک ایسڈ ،کیلشیم اور فارسفورس سے بھر پور پھل ہے۔
ہضم کی خرابیاں
نظام انہضام (Digestive System)کی کئی خرابیوں کی درستگی کے لیے لیموں کا استعمال برسوں سے کیا جا رہا ہے۔منہ میں تھوک زیادہ پیدا ہونے لگے،بد ہضمی ،اُلٹی ،قے ،سرچکرانے اور معدے میں تیزابیت کے خاتمے کے لیے ایک چائے کا چمچ لیموں کے رس میں شہد ملا کر استعمال کرنے سے طبیعت کی بحالی میں مدد ملتی ہے ۔اس کے علاوہ ایک گلاس پانی میں ایک چائے کا چمچ لیموں کا رس اور ایک چٹکی کھانے کا سوڈا(سوڈیم بائی کاربونیٹ)ملا کر پینے سے معدے کی تیزابیت میں آرام آتاہے۔دائمی قبض(Constipation)کے مریض اگر نہارمنہ گرم پانی میں لیموں کارس نچوڑ کر استعمال کریں تو اس پریشان کن حالت سے محفوظ رہا جا سکتاہے۔
موسمی اثرات سے تحفظ
گرمی ہو یا سردی لیموں کا استعمال دونوں موسموں کے اثرات سے تحفظ فراہم کرتا ہے ۔وٹامن سی کی کثیر مقدار کے سبب یہ جسم کے مدافعتی نظام کو قوت بخشتا ہے۔لیموں کی وجہ سے گرم وسرد موسم میں بکثرت پائے جانے والے(Free Radicals)جو سر درد،بخار،نزلہ زکام،کھانسی،ٹانسلز ،گھبراہٹ ،متلی ،بے چینی، دست و چڑ چڑا ہٹ کا سبب بنتے ہیں ،وہ جسم کو نقصان پہچانے سے قاصر رہتے ہیں۔سردیوں میں نیم گرم پانی میں لیموں کا رس اور شہد ملا کر استعمال کریں اور گرمیوں میں لیموں کے تازے تازے رس سے سکنجبین ،اسکوائش یا کاک ٹیل مشروبات تیار کرکے استعمال کریں۔اس طرح موسمی شدت سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
دیگر امراض میں مفید
لیموں نقرس(Gout)سوجے ہوئے مسوڑھوں ،ہڈیوں وجوڑوں کی سوجن کو رفع کرنے کے ساتھ ارتھرائیٹس (Arthritis)جیسے مرض سے شفایابی بخشنے والے بہترین پھل کی حیثیت رکھتا ہے۔وٹامن سی کی کثیر مقدار جوڑوں وپٹھوں کے ٹشوز (connective Tissues)کو طاقتور بناتی ہے۔ایک گلاس نیم گرم پانی میں ایک عد د لیموں کا رس اور چار چائے کے چمچ شہد ملا کر ایک چٹکی لاہور ی نمک (پسا ہوا )ڈال کر مکس کریں اور آہستہ آہستہ نوش فرمائیں۔
یہ مشروب ناصرف ٹشوز کی مضبوطی کے لیے مفید ہے بلکہ زائد وزن سے پریشان افراد کے جسم میں جمی ہوئی غیر ضروری چکنائی کو تیزی سے تحلیل کرکے جسم سے خارج کرنے اور اعصابی ٹشوز (Nerve Tissue)پر بھی سکون بخش اثرات مرتب کرتا ہے۔اس مقصد کے لیے نیم گرم پانی میں لیموں کا رس ملا کر نہار منہ دو سے تین ماہ تک باقاعدگی کے ساتھ استعمال کریں۔اس دوران چکنائی والی غذا کے بجائے ہلکی پھلکی غذا،تازے پھل وسلاد کو اپنی عمومی خوراک کا حصہ بنائیں سوئیٹ ڈشز،جنک فوڈ سوڈامشروبات سے پر ہیز بھی ضروری ہے۔
یہ خوش ذائقہ پھل ترش یا سائٹرس(Citrus)پھلوں کی فہرست میں ممتاز مقام کا حامل ہے۔لیموں میں شامل اسکاربک ایسڈ(وٹامن سی)اور سٹرک ایسڈ اس مختصر سے پھل کو بے شمار خوبیوں سے بھر پور بناتے ہیں۔یہ ہر موسم میں اپنی بہار دکھانے کے لیے دستیاب ہوتاہے۔نیم واقعی ایک عجوبہ ہے کیونکہ یہ ایک طرح سے کئی امراض کی دوا ہے۔اس کے استعمال اتنے زیادہ ہیں کہ انسان حیران رہ جاتاہے۔
تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے پتوں کی دھونی سے حشرات یعنی مچھر مکھی وغیرہ کو بھگانے کاکام صدیوں قبل بھی لیا جاتا تھا۔ریشمی اور اونی کپڑوں کو کیڑوں سے بچانے کے لیے اس کے پتے کپڑوں میں رکھے جاتے تھے۔اجناس کے گوداموں میں بھی اس کے پتے کپڑوں میں رکھے جاتے تھے تاکہ دالوں،گندم،چاول وغیرہ کیڑا لگنے سے محفوظ رہیں۔پتوں کی باریک ڈنڈی خلال کے طور پر استعمال ہوتی تھی جس کا جراثیم کش اثر ہوتا ہے ۔نیم کی ڈالی چیچک کے مریض کے دانے سہلانے کے کام لائی جاتی تھی اور صحت یاب ہونے کے بعد اس کے پتوں کو پانی میں ابال کر غسل صحت دیا جاتا تھا۔نیم کے پتوں کا عرق مسوڑھوں پر ملا جاتا تھا تاکہ پائیور یا ہو۔
نیم کی لکڑی پر دیمک کا اثر بہت کم ہوتا ہے۔اس کو فرنیچر وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔نیم کا پھل”نمبولی“پک جانے پر بچوں کو کھلایا جاتا رہا ہے تاکہ آشوب چشم نہ ہو اور خون کی صفائی بھی ہو جائے۔آج بھی یہ تمام علاج ویسے ہی مفید ہیں بلکہ جدید تحقیق کی روشنی میں انہیں مزید موثر اور فائدہ مند بنایا جا سکتا ہے۔
سستی اور معیاری مصنوعات
نیم کی کیڑے مارے خصوصیات کا باقاعدہ ذکر سب سے پہلے پروتھی(1937)نے کیا۔اس زمانے میں پاکستان کے مشہور سائنسدان ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی(مرحوم )نے نیم سے تین اہم مرکبات خالص حالت میں حاصل کیے۔یہ نیم پر سب سے پہلی تحقیق تھی۔تاہم اس وقت نیم کی کیڑے مار خصوصیات پر دنیا بھر میں تحقیق ہورہی ہے۔اس سے بہت سی کیڑے ماردوائیں بنائی جارہی ہیں۔امریکی تحقیق کاروں نے نیم کے تیل سے کئی لمونائڈز(Limonoids)حاصل کیے ہیں ۔یہ وہ کیمیائی اجزاء ہیں جو کیڑوں کی پیدائش کو قابو میں رکھتے ہیں۔یہاں تک کہ یہ کیڑوں کی پیدائش کو قابو میں رکھتے ہیں۔یہاں تک کہ یہ کیڑوں کو بانجھ بھی کر سکتے ہیں۔کینیڈا میں ایک ،ہندوستان میں چالیس اور پاکستان میں دو کیڑے مار دوائیں نیم ہی سے بنائی گئی ہیں۔ہندوستان میں نیم کے تیل سے کئی کریمیں اور لوشن بنائے گئے ہیں جو سستے بھی ہیں اور مفید بھی ۔یہاں تک کہ اختلاطی اعضاء کے امراض میں بھی انہیں مفید قرار دیا جاتا ہے ۔نیم مختلف امراض میں مفید پایا گیا ہے جن سے چنددرج ذیل ہیں۔
ملیریا
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ نیم کے تازہ پتوں کا جو شاندہ یا کاڑھا ایک کڑوا ٹانک ہے جو جگر پرمفید اثر کرکے ملیریا بخار کا علاج کرتاہے۔
بواسیر
نیم کے اندرونی چھال کے تین گرام،چھ گرام شکر کے ساتھ صبح کے وقت لینا بواسیر میں مفید بتایا جاتا ہے۔خونی بواسیر کے تدارک کے لیے تین یا چار نمبولیاں پانی کے ساتھ استعمال کرنا موثر بتایا جاتاہے۔
امراض جلد 
پتوں کا بیرونی استعمال،امراض جلد میں مفیدہے۔یہ خاص طور پر پھوڑے،پھنسیوں ،پرانے زخموں،السر ،چیچک کے حملے،سوزاک کے زخموں،غدود کی سوزش اور عام زخموں کے لیے موثر ہے ۔پتوں کا پلٹس ،جو شاندہ یا لیپ استعمال میں لایاجاتاہے۔
بالوں کے امراض
اگر بال گرتے ہوں یا ان کی نشوونما کم ہوتو نیم کے پتوں کو پانی میں ابال کر اس پانی سے سر دھونا مفید بتایا جا تا ہے۔اس طرح ناصرف بال گرنا بند ہو جاتے ہیں ۔بلکہ نشوونما بہترہوجاتی ہے ۔نئے بال اُگنا شروع ہو جاتے ہیں۔نیم کے تیل کا باقاعدہ استعمال بالوں کی جوؤں کا خاتمہ کرتا ہے۔
منہ کے امراض
نیم کی مسواک سے روزانہ دانت صاف کرنا مسوڑھوں کے کئی امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔اس سے دانتوں کی مضبوطی ،دانت درد سے نجات،سانس کی بو سے چھٹکارا اور منہ کے انفیکشن سے تحفظ ملتا ہے۔