ویڈیو کی خرید و فروخت میں میڈیا کی شخصیات بھی شامل تھیں معروف صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے انکشاف کر دیا

ویڈیو کی خرید و فروخت میں میڈیا کی شخصیات بھی شامل تھیں معروف صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے انکشاف کر دیا

لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 اگست 2019ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ جج ارشد ملک کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے بلایا ۔ میرے خیال میں اس شخص کو ایسے نہیں جانا چاہئیے، اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہئیے ۔ سپریم کورٹ نے باقاعدہ حکومت سے پوچھا ہے کہ آپ ان کو تحفظ کیوں دے رہے ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ لاہور اور ملتان کے ہوٹلوں میں جو ویڈیو کی خریدو فروخت کی گئی اس میں میڈیا کی شخصیات بھی شامل تھیں۔  

خیال رہے کہ گذشتہ روز سپریم کورٹ نے ویڈیو سکینڈل کیس میں پانچ تنقیح طلب امور متعین کیے ہیں اور پھر ان پر الگ الگ فیصلہ دیا تھا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر دو کے سابق جج محمد ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی تحقیقات کے حوالہ سے دائر تین درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کیا تھا۔

فیصلہ 25صفحات پر مشتمل تھا۔ عدالت نے فیصلہ میں قرار دیا کہ ایسا شخص جو ویڈیو یا آڈیو ریکارڈ کرے اس کو عدالت میں پیش کرنا ضروری ہے۔سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ ہی جائزہ لے سکتی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نواز شریف کی سزا ختم بھی کر سکتی ہے اور اسے برقرار بھی رکھ سکتی ہے، ویڈیو سے متعلق ارشد ملک کے بیانات ان کیخلاف کارروائی کے لیے کافی ہیں دھمکیاں مل رہی تھیں تو اعلیٰ عدلیہ کو آگاہ کیوں نہیں کیا۔
عدالت نے قرار دیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سماعت کے بعد احتساب عدالت کے فیصلہ میں ترمیم بھی کر سکتی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ چاہے تو فیصلے کو دوبارہ ٹرائل کورٹ کوبھجوا سکتی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کو دیکھنا ہو گا کہ ویڈیو کا جج کے فیصلوں پر کیا اثر ہو گا۔