کیلاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار اوچال وادی کیلاش میں احتتام پذیر

کیلاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار اوچال وادی کیلاش میں احتتام پذیر

پشاور (اے پی پی۔ 23 اگست2019ء) کیلاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار اوچال وادی کیلاش میں احتتام پذیر ہو گیا۔ کیلاش کے لوگ مذکورہ تہوار سال کے درمیان میں مناتے ہیں جو اکثر گندم کی کٹائی کے بعد منعقد ہوتا ہے، اوچال کے تہوار میں کیلاشی لوگ دودھ سے بنی ہوئی چیزیں پنیر، پینک، شوپینیک وغیرہ لوگوں میں مفت تقسیم کرتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کیلاشی لڑکی آرمینہ نے بتایا کہ اس تہوار میں لڑکے ڈھولک بجاتے ہیں جبکہ خواتین اکھٹے رقص پیش کرتی ہیں اور گیت گاتی ہیں جس میں لوگ اکٹھے خوشیاں مناتے ہیں اور دعائیں بھی مانگتے ہیں۔ برطانوی خاتون سیاح شارلٹ ہوفنسن نے کہا کہ مجھے یہا ں آکر بہت مزہ آیا، ہمیں چاہیے کہ ہم کیلاش کی ثقافت کو محفوظ اور زندہ رکھیں کیونکہ انہی تہواروں کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ اوچال کی ایک خاص رسم بھی منائی جاتی ہے جس میں وادی کے لوگ پھول اور پتے اکھٹے کرکے ماتم زدہ گھروں میں جاتے ہیں۔ اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ کیلاش نے دنیا بھر اور خصوصی طور پر پڑوسی ملک بھارت کو پیغام دیا کہ اگر کسی نے اقلیتوں کے ساتھ محبت، رواداری اور نرمی دیکھنی ہو تو وہ پاکستان آکر کیلاشی عوام کے ساتھ مسلمانوں کا حسن سلوک اور اچھا برتائو دیکھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کیلاش کے عوام بہت قلیل تعداد میں ہیں تاہم یہاں پر کیلاشی عوام کو مکمل طور پرمذہبی آزادی حاصل ہے۔ اوچال تہوار میں چترال کی ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور انتظامیہ کے افسران نے بھی شرکت کی جن کی آمد پر کیلاش کی روایات کے مطابق انہیں زرق برق اور رنگین چوغے پہنائے گئے جو کیلاشی عوام میں عزت کی نشانی سمجھے جاتے ہیں۔ اوچال کا تہوار دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح وادی کیلاش پہنچے۔ اس موقع پر سیاحوں نے حکومت سے وادی چترال کی ترقی کیلئے زیادہ سے زیادہ اقدامات کر نے کا بھی مطالبہ کیا کیونکہ یہاں کی تر قی سے سیاحت کو بہت زیادہ فروغ مل سکتاہے جو یقینی طور پر اس پسماندہ خطے کی غربت کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔